مرے رب کی مجھ پر عنایت ہوئ

مرے رب کی مجھ پر عنایت ہوئ
کہوں بھی تو کیسے عبادت ہوئ
حقیقت ہوئ جیسے مجھ پر عیاں
قلم بن گیا ہے خدا کی زباں

مخاطب ہے بندے سے پروردگار
تو حسنِ چمن ، تو ہی رنگِ بہار
تو معراجِ فن ، تو ہی فن کا سنگار
مصور ہوں میں ، تو میرا شاہکار

یہ صبحیں ، یہ شامیں ، یہ دن اور رات
یہ رنگین ، دلکش ، حسیں کائنات
کہ حوروں ، ملائک  و جنّات میں
کیا ہے تجھے اشرف ا لمخلوقات

میری عظمتوں کا حوالہ ہے تو
تو ہی روشنی ہے اجالا ہے تو
 فرشتوں سے سجدہ بھی کروا دیا
 کہ تیرے لئے میں نے کیا نہ کیا

یہ دنیا ، جہاں ، بزم ، آرائیاں
یہ محفل ، یہ میلے ، یہ تنہائیاں
فلک  کا تجھے  شامیانہ   دیا
 زمیں پرتجھے آب و  دانا  دیا

ملے آبشاروں سے بھی حوصلے
پہاڑوں میں تجھ کو دیئے راستے
یہ پانی ، ہوا  اور شمس  و قمر
یہ موجِ رواں ، یہ  کنارہ بھنور

یہ شاخوں پہ غنچے چٹکتے  ہوئے
فلک پہ ستارے چمکتے ہوئے
یہ سبزے ، یہ پھولوں بھری کیاریاں
یہ پنچھی ، یہ  اڑتی ہوئ تتلیاں

یہ شعلہ ، یہ شبنم ، یہ مٹّی ، یہ سنگ
یہ جھرنوں کے بجتے ہوئے جل ترنگ
یہ جھیلوں میں ہنستے ہوئے سے کنول
یہ دھرتی پہ موسم کی لکھّی  غزل

یہ سردی ، یہ گرمی ، یہ بارش، یہ دھوپ
یہ چہرا ، یہ قد اور یہ رنگ و روپ
درندوں ، چرندوں پہ قابو دیا
تجھے بھائ دے کر کے بازو دیا

بہن دی تجھے اور شریکِ سفر
یہ رشتے، یہ ناطے، گھرانہ ، یہ گھر
اولاد بھی  دی ،  دیئے   والدین
ا ، ل ،م   ،  ق  اور  ع  ،  غ


یہ عقل و ذہانت ، شعور  و  نظر
یہ بستی ، یہ صحرا ، یہ خشکی ، یہ تر
اور اس پر کتابِ ہدایت بھی دی
نبیؐ بھی اتارے ، شریعت بھی دی

غرض کہ سبھی کچھ ہے تیرے لئے
بتا  کیا  کیا  تونے میرے لئے۔