میری معصوم دعاؤں کو الٰہی سن لے
میری معصوم دعاؤں کو الٰہی سن لے
میری مغموم صداؤں کو الٰہی سن لے
نورِ ایماں سے میرے دل کو منور کر دے
سنگ ریزہ ہوں ابھی میں مجھے گوہر کر دے
گرنے والوں کو اٹھا پست کو بالا کر دے
ہر جگہ آج زمانے میں اجالا کر دے
تجھ سے امید تیرا ڈر
ہو الٰہی مجھ کو
پھر بنا اپنا وفادار سپاہی
مجھ کو
مجھے اسلام ہر اِک چیز
سے پیارا ہو جاۓ
جان دے دوں میں اگر
تیرا اشارہ ہو جاۓ
میرے دشوار مراحل کو
تو آساں کر دے
علم کی کلیوں سے یارب
میرا دامن بھر دے
تو عطا کر مجھے ہر وقت
بھلائ کا خیال
دل میں کھٹکے نہ کسی
وقت برائ کا خیال
نیکیوں کی مجھے توفیق
دے ہر دم یارب
دل کے زخموں کے لیے بخش دے مرہم یارب
آسرا تیرے سوا کوئ
نہیں ہے میرا
دونوں عالم میں ہے بس
ایک سہارا تیرا
تیری دہلیز پہ یارب میری
پیشانی ہے
میری خاطر یہ جہاں ہے
یہ ہوا پانی ہے
علم کے ساتھ عمل کی
بھی سعادت پاؤں
میں بڑا ہوکے زمانے کی
امامت پاؤں
مجھے شیطان کے رستے سے
بچا اے مولا
اور قانونِ شریعت پہ
چلا اے مولا
سر جھکاۓ تیرے دربار
میں حاضر ہوں میں
شکر کرتا ہوں ہر اک
حال میں شاکر ہوں میں
میں گناہوں سے پشیمان
ہوا ہوں یارب
آج پھر تجھ سے دعا مانگ رہا ہوں یارب
اپنی قدرت سے تو سیپی میں گوہر پیدا کر
یعنی پھر میری دعاؤں میں اثر پیدا کر
میری معصوم دعاؤں کو الٰہی سن لے
میری مغموم صداؤں کو الٰہی سن لے۔

0 Comments
You can send me your Poem and Shayari, if you want to publish in my blog.