www.islamic-shayari.tech 


وہ شمع اجالا جس نے کیا

وہ شمع اجالا جس نے کیاچالیس برس تک غاروں میں
اک روز چمکنے والی تھی سب دنیا کے درباروں میں

گر ارض سما کی محفل میں'لو لاک لما' کا شور نہ ہو
یہ رنگ نہ ہو گلزاروں میں یہ نور نہ ہو سیاروں میں

جو فلسفیوں سے کُھل نہ سکا جو نکتہ وروں سے حل نہ ہوا
وہ راز اِک کملی والے نے بتلا دیا چند اشاروں میں

ہیں کِرنیں ایک ہی مشعل کی  ابوبکر ، عمر ، عثمان و علی
ہم مرتبہ ہیں یارانِ نبی  کچھ فرق نہیں اُن چاروں میں

وہ جِنس نہیں ایمان جسے لے آئیں دکانِ فلسفہ سے
ڈونڈھے سے ملےگی عاقِل کو یہ قرآں کے سپاروں میں

وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں
اک روز چمکنے والی تھی  سب دنیا کے درباروں میں۔